بھٹکل، 24 / مارچ (ایس او نیوز) بھٹکل تعلقہ کے 16 گرام پنچایتوں میں سے ہاڈولی، کونار اور کوپّا کو چھوڑیں تو بقیہ تمام علاقوں میں لوگوں کو پینے کے پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، جبکہ شہری علاقوں میں پانی کی سطح روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے ۔
جالی پٹن پنچایت کے رکن مصباح الحق کے مطابق جالی کے علاقے میں کڈوین کٹے ڈیم سے پانی فراہمی کے لئے استعمال ہونے والے تین پمپس میں ایک پمپ خراب ہو کر دو مہینے سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ابھی تک اس کی مرمت نہیں کی گئی ہے ۔ بقیہ دو پمپس بھی ٹھیک طریقے سے کام نہیں کر رہے ہیں جس کی وجہ سے یہاں کسی بھی گھر کو دن میں کم از کم دو سو لیٹر پانی بھی صحیح ڈھنگ سے سپلائی نہیں ہو رہا ہے ۔ بعض جگہوں پر تین چار دن میں ایک مرتبہ پانی نہ ملنے کی خبریں مل رہی ہیں ۔
ہیبلے ہیرتار، بیلکے موگیر کیری، منڈلی موگیر کیری جیسے علاقوں میں بھی پانی کی قلت بڑھتی جا رہی ہے ۔ اسی بیچ پانی فروخت کرنے والوں کا کاروبار تیز ہوگیا ہے ۔ پانی کی قلت سے پریشان لوگ دو ہزار لیٹر پانی 700 تا 800 روپے میں خریدنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔

اگر بھٹکل شہر اور بعض پنچایت علاقوں کے لئے پانی سپلائی کا سب سے اہم ذریعہ کڈوین کٹا ڈیم کی بات کریں تو سال در سال اسی ایک ذریعے پر شہری اور دیہی ضروریات کا انحصار بڑھتا جا رہا ہے ۔ لیکن اس ڈیم کے اندر پانی کا ذخیرہ بڑھانے کی کوشش نہیں کی جا رہی ہے ۔ اس وقت کڈوین کٹہ ڈیم میں 200 ملین کیوبک فٹ پانی ذخیرہ رکھنے کی صلاحیت ہے ۔ سالانہ 25 ملین کیوبک فٹ پانی پینے کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ 10 ملین کیوبک فٹ پانی ڈیتھ اسٹوریج ہوتا ہے ۔ 140 ملین کیوبک فٹ پانی زراعت اور کاشتکاری کے لئے نالوں کے ذریعہ استعمال کیا جاتا ہے ۔
کڈوین کٹہ ڈیم ٹی ایم سی کے حدود میں رہنے کی وجہ سے ٹی ایم سی نے ندی کا پانی پینے کے لئے استعمال کرنا شروع کیا ، لیکن ٹی ایم سی نے اسے صحیح ڈھنگ سے استعمال کرنے کا بندوبست نہیں کیا ۔ اس کے بعد جالی پٹن پنچایت، شیرالی ، ماوین کوروے وغیرہ علاقے کے لئے اسی ندی سے پانی سربراہی ہونے لگی ۔ اس طرح یہ ندی بھٹکل تعلقہ کے ایک بڑے علاقے کے لئے لائف لائن بن گئی ہے ۔